مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں اور صرف فوجی طاقت کے استعمال سے خطے میں پائیدار استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق روزنامہ الریاض سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل بن فرحان نے خبردار کیا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی تیزی سے علاقائی سرحدوں سے باہر پھیل رہی ہے، جس سے عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیاں اور اقتصادی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی تنازعات کے اثرات بہت تیزی سے پوری دنیا تک پہنچتے ہیں، اس لیے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ علاقائی استحکام ایسے نظام کے قیام سے ممکن ہے جو ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، حسن ہمسائیگی، سمندری آمدورفت کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر جوابدہی ہونی چاہیے، کیونکہ جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیاں صرف عدم تحفظ کو جنم دیتی ہیں اور خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی کے منافی ہیں۔
آپ کا تبصرہ